فصیحہ خان،سینئر ایڈیٹر نیوز،سینئر پروڈیوسر /ڈائریکٹر
اسرائیل غزہ کے علاقوں کا اپنے ساتھ الحاق کر کے حماس پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ یہ بات ایک اسرائیلی وزیر نے بدھ کے روز کہی ہے۔
اسرائیلی وزیر نے ‘کان ریڈیو’ سے بات کرتے ہوئے کہا اس آئیڈیا پر عمل سے ان فلسطینیوں کی امیدوں کو ایک بڑا دھچکا لگ سکتا ہے جو فلسطینی ریاست کے اسرائیلی زمین پر قیام کا سوچ رہے ہیں۔
اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کے رکن زیو ایلکن کا یہ بیان برطانیہ کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلینے سے متعلق مشروط بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس سے ایک ہفتہ پہلے فرانس کے صدر میکروں نے بھی اعلان کیا تھا کہ فرانس جنرل اسمبلی کے اگلے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا ۔
بعد ازاں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ قیادت میں ہونے والی ایک فلسطین کانفرنس کے اختتام پر مصر ، قطر اور عرب لیگ کی حمایت سے اعلامیہ بھی جاری کیا ہے۔ جس میں غزہ جنگ کے خاتمے کے حصہ کے طور پر دوریاستی حل پر زور دیا گیا ہے۔ جبکہ حماس کو اسلحہ اور مستقبل کی حکومت میں اپنے کردار سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کو اب دوٹوک انداز میں رد کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کو اسرائیل پر حملے کا انعام دینے کے مترادف ہوگا۔
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کے رکن نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے ایک خاص مدت میں جنگ بندی قبول نہ کی تو اسے وسیع تر تباہی کا الٹی میٹم دیا جائے گا۔ یاد رہے پچھلی جمعرات کو دوحہ میں جنگ بندی مذاکرات کا آخری دور کافی مثبت رخ پر تھا مگر اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو دوحہ سے واپس بلا لیا تھا اور غزہ میں قید اسرائیلیوں کو رہا کرانے کے لیے متبادل آپشنز پر غور کا کہا تھا۔
اسرائیلی وزیر زیو ایلکن نے مزید کہا دشمن کے لیے سب سے تکلیف دہ اس کی زمین کا چھینا جانا ہے۔ حماس والے ہمارے ساتھ کب گیم کھیلتے ہیں تو انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ان کی زمین ان سے چھن رہی ہے۔ وہ واپس کبھی اپنی زمین پر نہیں آ سکیں گے۔ ہمارے پاس یہ ایک اہم ‘ ٹول ‘ ہے۔
خیال رہے پچھلے ہفتے ختم کر دیے جانے والے مذاکرات میں ساٹھ دنوں کی ابتدائی جنگ بندی کی تجویز تھی۔ اسرائیل غزہ میں انسانی صورتحال اور جنگ روکنے کے حوالے سے سخت دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
غزہ میں جاری قحط کی سی صورتحال سے مرنے والے فلسطینیوں اور خاص طور پر فلسطینی بچوں کی بھوک سے بلک بلک کر مرنے کے واقعات میں اضافے نے یورپی ملکوں کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز مزید سات فلسطینی غذائی قلت کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ان میں ایک دو سالہ بچی بھی شامل ہے۔
غزہ میں قید اسرائیلیوں کے اہل خانہ ایک طرف اپنا احتجاج مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں کہ نیتن یاہو حکومت ان کے بچوں کو حماس کے ساتھ معاہدہ کر کے جلد سے جلد واپس لائے اور جنگ کو مزید وسعت نہ دے۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی اپیل کرنا شروع کر دی ہے کہ اس وقت تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہ کیا جائے جب تک ان کے عزیز و اقارب واپس نہیں آتے۔
ان قیدیوں کے اہل خانہ کے بنائے گئے فورم کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو موجودہ حالات میں تسلیم کرنا امن کی جانب قدم نہیں ہوگا بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور اخلاقی اقدار کو خطرہ ہوگا۔ نیز سیاسی اعتبار سے انتہائی ناکامی کا موقع بن جائے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کے روز برطانیہ کے فیصلے پر کہا کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ حماس کی شیطانی دہشتگردی کے لیے ایک انعام ہے۔ اسرائیل کی طرف سے اسی طرح کا تبصرہ پچھلے ہفتے فرانس کے اس اعلان پر سامنے آیا تھا جو صدر میکروں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کیا تھا۔
حماس نے ابھی تک اس مطالبے پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ وہ خود کو غیر مسلح کر کے اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دے۔
فلسطینی اتھارٹی محمود عباس کے زیر قیادت اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں بہت محدود اختیارت کے ساتھ ایک اتھارٹی انداز میں کام کرتی ہے۔ واضح رہے حماس اس سے قبل کئی بار ہتھیار چھوڑ دینے کے بارے میں واضح انکار کر چکی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم اس خوف کا اظہار کرتے ہیں کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہوگی۔ اس لیے اگر کوئی ایسی ریاست بنے بھی تو سیکیورٹی کے تمام اختیارات اسرائیل کے پاس ہونے چاہیں۔
اسرائیل کے انتہا ہسند وزراء کھلے عام یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنا دیا جائے اور اس کا اسرائیل سے جبری الحاق کا اعلان کیا جائے ۔ اب غزہ کے بعض علاقوں کو بھی اسرائیل کا حصہ بنانے کے لیے آوازیں اسی سلسلے میں اٹھائی جا رہی ہیں۔
غزہ میں امدادی سامان اور خوراک کی ترسیل کا سلسلہ اسرائیل نے بہت زیادہ دباؤ کے بعد کسی حد تک شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم یہ ترسیل غزہ کے 24 لاکھ کے قریب لوگوں کے لیے بہت ناکافی ہے۔
پچھلی رات ایک 2 سالہ بچی کی بھوک کی وجہ سے ہلاکت ہوگئی۔ یہ بات اس کے والد نے بدھ کے روز ‘روئٹرز’ کو بتائی ہے۔
دیر البلاح سے فون پر بچی کے والد نے بتایا کہ ان کی 2 سالہ بیٹی کا نام مکہ تھا جو بھوک اور ادویات نہ ملنے کے باعث جاں بحق ہوگئی۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس شیر خوار بچی کو مخصوص دودھ کی ضرورت ہے لیکن ہم اس کے لیے اس دودھ کا بندوبست نہیں کر سکتے تھے۔ یوں وہ بھوک سے مرگئی۔
اب تک غزہ میں بھوک سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 144 ہوچکی ہے۔ جن میں 89 بچے ہیں۔ یہ ساری ہلاکتیں حالیہ چند ہفتوں کے دوران ہوئی ہیں۔
اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں بمباری کا نظام الاوقات تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کچھ دیر کے لیے بمباری میں وقفہ کرے گی جس سے امداد کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے گی۔
لیکن خوراک کی ترسیل میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ خوراک حاصل کرنے والوں کو خوراک ملنے سے پہلے ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
اب تک مجموعی طور پر اسرائیلی فوج ساٹھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہے۔ جن میں دو تہائی کے قریب فلسطینی عورتیں اور بچے ہیں اور ہر آنے والا دن فلسطینیوں کی مزید ہلاکتوں کا باعث بنتا نظر آرہا ہے۔

















