قرآنی آیات سے مزین ستار بابِ کعبہ، اقوام متحدہ میں سعودی عرب کا چمکتا تحفہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

فصیحہ خان،سینئر ایڈیٹر نیوز،سینئر پروڈیوسر /ڈائریکٹر

سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کو تحفے میں دیا گیا ستار بابِ کعبہ شریف گزشتہ چالیس برس سے نیویارک کے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کی راہداریوں کی زینت بنے ہوئے ہے۔ یہ وہی اصلی ستار ہ(پردہ) ہے جو کعبہ شریف کے دروازے پر نصب ہوتا ہےاور جس پر قرآن کریم کی آیات خالص سونے کے تاروں سے کڑھائی کی گئی ہیں۔ یہ عظیم الشان تحفہ مملکت کے مرحوم فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز کے حکم پر 1983ء میں اقوام متحدہ کو پیش کیا گیا تھا۔

یہ سعودی پیشکش اس بات کی علامت ہے کہ مملکت عالمگیر اقوام اور مختلف ادیان کے درمیان باہمی ربط و ہم آہنگی کو نہایت اہمیت دیتی ہے۔ ستارِ کعبہ درحقیقت بیت اللہ کی اصل کسوہ (غلاف) کا حصہ ہے، جو خاص طور پر اقوام متحدہ کے لیے مختص کیا گیا۔ اس کے ذریعے مملکت نے ایک ایسی روحانی اور ثقافتی علامت پیش کی جو دنیا کے لیے امن و احترام کی مشترکہ زبان بولتی ہے۔

عدل کا منظر اور فلسطین سے وفا

حال ہی میں نیویارک میں سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والی “دو ریاستی حل” کانفرنس کے دوران عالمی شخصیات جب اسی ستارِ کعبہ کے سامنے جمع ہوئیں تو وہ منظر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا تھا۔ عرب و اسلامی دنیا اور مظلوم اقوام کے لیے یہ تصویر ایک امید کی کرن بن کر سامنے آئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انصاف کی ایک صدا، سعودی اور فرانسیسی حمایت سے، فلسطینی عوام کے حق میں بلند ہوئی، اور آزاد دنیا کے کئی ممالک نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا۔

وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی زیر قیادت یہ منظر اس پیغام کا حامل تھا کہ سعودی عرب فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کا یہ موقف مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز سے لے کر آج تک غیر متزلزل رہا ہے۔ ستارِ کعبہ اس وفاداری، خلوص اور تاریخی ذمہ داری کی علامت بن کر عالمی مرکز میں چمکتا ہے۔

نایاب اور قیمتی دستکاری کا شاہکار

ستارِ کعبہ محض روحانیت کی علامت نہیں بلکہ کاریگری کا نادر نمونہ بھی ہے۔ ہر سال کعبہ شریف کے غلاف کی تیاری کے لیے سعودی ماہرین کی ایک مخصوص ٹیم تقریباً 120 کلوگرام سونے سے مزیّن چاندی کے تار، 60 کلوگرام خالص چاندی، 825 کلوگرام ریشم اور 410 کلوگرام خام روئی استعمال کرتی ہے۔ مکمل کسوہ کا وزن تقریباً 1.4 ٹن ہوتا ہے، جس میں 86 آیاتِ قرآنی کو خالص سونے سے کشیدہ کیا جاتا ہے۔

ایک صدیوں پر محیط روایت

سعودی عرب میں کسوہ کے ساتھ ایک خاص پروٹوکول رائج ہے۔ ہر سال نو ذی الحجہ کو کسوہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ پرانا کسوہ کے حصے خاص طور پر اس کی المونیا اور سونے کی کڑھائی کو حکومتی ضابطوں کے مطابق محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ وہ کسی کیمیائی یا حیاتیاتی اثر سے محفوظ رہیں۔ بعد ازاں انہیں سعودی سفارتخانوں، مذہبی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور معزز شخصیات کو بطور تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔

یہ روایت نہ صرف مملکت کی مذہبی اقدار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ عالمی سفارت کاری میں ثقافتی روابط کو مستحکم کرنے کا ایک حسین ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ میں لٹکتا ستارِ کعبہ اس پالیسی کا روشن ترین استعارہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں